بلڈ پریشر، خوراک، ورزش، تمباکو نوشی اور دل کی بیماری کے درمیان تعلقات اچھی طرح سے ثابت ہو چکے ہیں۔
تاہم نئی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ خطرات مردوں کے مقابلے میں خواتین کی دل کی صحت پر زیادہ اثرانداز ہو سکتے ہیں۔
یہ نتائج شکاگو میں امریکن کالج آف کارڈیالوجی کے سالانہ سائنسی اجلاس میں پیش کیے گئے، جس میں تجویز کیا گیا کہ معمول کی کلینیکل اسکریننگ کے دوران ہر فرد کی جنس کو مدنظر رکھا جانا چاہیے تاکہ دل کی بیماری کے خطرات کا بہتر اندازہ لگایا جا سکے۔
محققین کا کہنا ہے کہ دل کی بیماری کے خطرے کے عوامل میں صنفی فرق کو سمجھنا افراد کو صحت مند طرز زندگی اپنانے کی ترغیب دینے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
یاد رہے کہ یہ تحقیق ابھی تک کسی تحقیقی جریدے میں شائع نہیں ہوئی ہے۔