بھارتی فلم انڈسٹری کے معروف ستارے شاہ رخ خان، اجے دیوگن اور ٹائیگر شروف کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق، ان فنکاروں پر ایک مشہور الائچی برانڈ کی تشہیر کرنے پر مقدمہ دائر کیا گیا ہے، جس میں ان پر گمراہ کن اشتہارات کا حصہ بننے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

اداکاروں کو اس قانونی مسئلے کا سامنا اس وقت کرنا پڑا جب انہوں نے ایک معروف پان مسالہ برانڈ اور اس کی متنازعہ ٹیگ لائن ’بولو زبان کیسری‘ کی تشہیر کی۔ یہ شکایت موہن سنگھ ہانی نامی شہری کی جانب سے درج کروائی گئی، جن کا مؤقف ہے کہ یہ اشتہار غلط معلومات پھیلا کر خاص طور پر نوجوانوں کو گمراہ کر رہا ہے۔

شکایت گزار کا کہنا ہے کہ شاہ رخ خان، اجے دیوگن اور ٹائیگر شروف لاکھوں مداحوں کے لیے ایک مثالی شخصیت رکھتے ہیں، اور اس طرح کے پروڈکٹ کی توثیق کرکے وہ عوام کو دھوکہ دے رہے ہیں، کیونکہ اس میں زعفران کی موجودگی کا دعویٰ حقیقت کے برعکس ہے۔

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ کمپنی نے اپنے دعوے کے حق میں کوئی مستند ثبوت فراہم نہیں کیا، جبکہ پیکیجنگ پر درج انتباہی نوٹس اس قدر باریک الفاظ میں لکھا گیا ہے کہ اسے پڑھنا تقریباً ناممکن ہے، جو شفافیت کے اصولوں کے خلاف ہے۔

شکایت کنندہ نے درخواست کی ہے کہ متنازعہ اشتہار پر فوری طور پر پابندی عائد کی جائے اور اداکاروں سمیت متعلقہ کمپنی پر بھاری جرمانہ لگایا جائے۔

کوٹا کنزیومر ڈسپیوٹ ریڈرسل کمیشن نے شاہ رخ خان، اجے دیوگن، ٹائیگر شروف اور مذکورہ پان مسالہ بنانے والی کمپنی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

Share.
Leave A Reply

Exit mobile version