میڈیا رپورٹس کے مطابق کیلن نے اپنے اسٹیکرز کا کاروبار شروع کرنے کے لیے دو سال قبل اپنی والدہ کیرن نیوزہم سے ایک ڈیجیٹل ڈرائنگ، کٹنگ اور پرنٹنگ مشین حاصل کی تھی۔ اس مشین کی مدد سے کیلن نے ٹرانسفر پرنٹ کرنا شروع کیا، جسے وہ ایکریلک شیٹس یا شیشے کی سطح پر چسپاں کرتا تھا۔ جب اس نے اپنے بنائے ہوئے اسٹیکرز کو فیس بک پر شیئر کیا، تو اس کے آرڈرز آنا شروع ہو گئے۔
کیلن کی کامیابی کی کہانی اس بات کا ثبوت ہے کہ نوجوان افراد مواد کی تخلیق اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ جیسے شعبوں میں نئی راہیں تلاش کر سکتے ہیں۔ 2024 کے آغاز میں، کیلن ایک مہینے میں تقریباً 200 اشیاء فروخت کر رہا تھا، اور اس نے کالج کے بعد دن میں تین گھنٹے گھر پر کام کرتے ہوئے اچھا خاصا پیسہ کمانا شروع کر دیا تھا۔
کیلن کی والدہ کیرن نے بیٹے کو اس کاروبار کے آغاز میں تعاون فراہم کیا اور اس کی تخلیقی صلاحیتوں کو جلا بخشی۔ ان کے اسٹیکرز کی مقبولیت میں اضافے کے ساتھ، کیلن نے اپنے کاروبار کو مزید وسعت دی اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو ایک سوشل میڈیا اسٹار کے طور پر بھی متعارف کرایا۔
یہ کہانی نہ صرف نوجوانوں کو خود روزگار کے نئے مواقع فراہم کرنے کی ترغیب دیتی ہے، بلکہ یہ اس بات کی بھی غمازی کرتی ہے کہ کس طرح ڈیجیٹل دنیا میں منفرد خیالات اور تخلیقی صلاحیتوں کو مارکیٹنگ اور فروخت کے ذریعے کامیابی میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔