پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیے آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2025 کے اسکواڈ میں سینئر اور تجربہ کار کھلاڑیوں کی واپسی کا امکان ہے، جس سے ٹیم کی قوت اور توازن کو مضبوط بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اسکواڈ کی ممکنہ جھلکیاں:
وکٹ کیپر کپتان: محمد رضوان اسکواڈ کے واحد وکٹ کیپر اور کپتان ہوں گے۔
اوپنرز: جارح مزاج فخر زمان کی ٹیم میں واپسی کی توقع کی جا رہی ہے، جبکہ نوجوان صائم ایوب کے ساتھ تجربہ کار امام الحق کی واپسی بھی متوقع ہے۔
بولنگ لائن اپ: اسکواڈ میں 4 فاسٹ بولرز اور 3 اسپنرز شامل ہوں گے، جن میں آل راؤنڈر شاداب خان کی شمولیت کا امکان بھی روشن ہے۔
بیٹنگ لائن اپ: 7 بیٹرز کو اسکواڈ کا حصہ بنایا جائے گا، تاکہ ٹیم کی بیٹنگ لائن مضبوط اور متوازن ہو۔
ٹورنامنٹ کی تفصیلات:
افتتاحی میچ: 19 فروری کو کراچی میں پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان ہوگا۔
فائنل: 9 مارچ کو شیڈول ہے۔
میزبان اسٹیڈیمز:
کراچی کا نیشنل بینک اسٹیڈیم اور راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم 3، 3 گروپ میچوں کی میزبانی کریں گے۔
لاہور کا قذافی اسٹیڈیم کم از کم 4 میچوں کی میزبانی کرے گا۔
وقت: تمام میچز مقامی وقت کے مطابق دوپہر 2 بجے شروع ہوں گے۔
ٹیم کی تیاری:
اسکواڈ میں تجربہ اور جوان خون کے امتزاج سے ٹیم کی کارکردگی کو بہتر بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ سینئر کھلاڑیوں کی واپسی اور نوجوان ٹیلنٹ کا امتزاج پاکستان کے لیے چیمپئنز ٹرافی میں کامیابی کے امکانات کو بڑھا سکتا ہے۔
اسکواڈ کی ممکنہ جھلکیاں:
وکٹ کیپر کپتان: محمد رضوان اسکواڈ کے واحد وکٹ کیپر اور کپتان ہوں گے۔
اوپنرز: جارح مزاج فخر زمان کی ٹیم میں واپسی کی توقع کی جا رہی ہے، جبکہ نوجوان صائم ایوب کے ساتھ تجربہ کار امام الحق کی واپسی بھی متوقع ہے۔
بولنگ لائن اپ: اسکواڈ میں 4 فاسٹ بولرز اور 3 اسپنرز شامل ہوں گے، جن میں آل راؤنڈر شاداب خان کی شمولیت کا امکان بھی روشن ہے۔
بیٹنگ لائن اپ: 7 بیٹرز کو اسکواڈ کا حصہ بنایا جائے گا، تاکہ ٹیم کی بیٹنگ لائن مضبوط اور متوازن ہو۔
ٹورنامنٹ کی تفصیلات:
افتتاحی میچ: 19 فروری کو کراچی میں پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان ہوگا۔
فائنل: 9 مارچ کو شیڈول ہے۔
میزبان اسٹیڈیمز:
کراچی کا نیشنل بینک اسٹیڈیم اور راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم 3، 3 گروپ میچوں کی میزبانی کریں گے۔
لاہور کا قذافی اسٹیڈیم کم از کم 4 میچوں کی میزبانی کرے گا۔
وقت: تمام میچز مقامی وقت کے مطابق دوپہر 2 بجے شروع ہوں گے۔
ٹیم کی تیاری:
اسکواڈ میں تجربہ اور جوان خون کے امتزاج سے ٹیم کی کارکردگی کو بہتر بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ سینئر کھلاڑیوں کی واپسی اور نوجوان ٹیلنٹ کا امتزاج پاکستان کے لیے چیمپئنز ٹرافی میں کامیابی کے امکانات کو بڑھا سکتا ہے۔