اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے وزیر داخلہ محسن نقوی کو پی ٹی آئی کے ساتھ پُرامن اور آئین کے مطابق احتجاج کے لیے مذاکرات کا حکم دے دیا۔

پی ٹی آئی کی احتجاج روکنے کی درخواست پر سماعت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے پانچ صفحات پر مشتمل حکم نامہ جاری کیا۔ عدالت نے وزیر داخلہ کو پی ٹی آئی سے بات چیت کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ مناسب ہوگا کہ اس مقصد کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے، جس کے سربراہ وزیر داخلہ یا کوئی اور فرد ہوں، اور پی ٹی آئی کی قیادت کو مذاکرات میں شامل کیا جائے۔

عدالت نے یہ بھی کہا کہ کمیٹی پی ٹی آئی قیادت کو بیلاروس کے صدر کے دورے کی حساسیت سے آگاہ کرے اور اس کمیٹی میں چیف کمشنر اسلام آباد کو بھی شامل کیا جائے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ اس رابطے سے پیش رفت کی توقع ہے۔

مزید برآں، عدالت نے کہا کہ اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوں تو وزیر داخلہ کو قانون کے مطابق اسلام آباد میں امن و امان کو یقینی بنانا ہوگا۔

تحریری حکم نامہ میں یہ بھی کہا گیا کہ پی ٹی آئی کو اسلام آباد میں احتجاج کے لیے ڈپٹی کمشنر کو سات دن پہلے درخواست دینا ہوگی، اور اجازت ملنے پر ہی احتجاج کیا جا سکے گا۔ وزیر داخلہ کو یہ پیغام پی ٹی آئی کی قیادت تک پہنچانے کی ہدایت کی گئی۔

عدالت نے فریقین کو 27 نومبر تک رپورٹ جمع کروانے کا حکم دیا اور کیس کی مزید سماعت بھی اسی تاریخ کو ہوگی۔

Share.
Leave A Reply

Exit mobile version