اسلام آباد۔چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ اعجاز چوہدری کے پروڈکشن آرڈرز پر عمل نہ ہونے کی وجہ سے ایوان کا استحقاق مجروح ہوا ہے۔
سینیٹ کے اجلاس میں اعجاز چوہدری کے پروڈکشن آرڈرز پر رولنگ دیتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ سینیٹ کے 245ویں اجلاس میں سینیٹر اعجاز چوہدری کے پروڈکشن آرڈرز جاری کیے گئے تھے، مگر میڈیا رپورٹس سے پتا چلا کہ ان پروڈکشن آرڈرز پر عمل نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ چونکہ سینیٹر اعجاز چوہدری کے پروڈکشن آرڈرز پر عملدرآمد نہیں ہوا، اس لیے اس معاملے کو استحقاق کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے واضح طور پر کہا کہ اعجاز چوہدری کے پروڈکشن آرڈرز پر عمل نہ ہونے سے ایوان کا استحقاق مجروح ہوا ہے۔
ن لیگ کے پارلیمانی لیڈر عرفان صدیقی نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین سینیٹ صاحب آپ نے ہمارے لیے بہت امتحان لیا ہے، مگر جب آپ ممبران کے استحقاق کے لیے رولنگ دیتے ہیں تو پورا ایوان آپ کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں سینیٹرز کے پروڈکشن آرڈرز پر عمل ہونا چاہیے، اور امید ظاہر کی کہ استحقاق کمیٹی اس معاملے کو دیکھے گی۔
عرفان صدیقی نے مزید کہا کہ قید کاٹنا سیاستدانوں کا زیور ہے اور مثال کے طور پر چیئرمین سینیٹ نے 9 سال اور نواز شریف نے مجموعی طور پر 4 سال قید کی سزا کاٹی۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی قیدی پر تشدد نہیں ہو رہا، جیل میں مشکلات ضرور ہیں مگر تشدد کے متعلق کہانیاں مت بیان کریں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ چیئرمین سینیٹ کے جاری کردہ پروڈکشن آرڈرز پر عملدرآمد ہونا چاہیے۔