ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نئی تکنیک خاص طور پر اُن افراد کے لیے مفید ہو سکتی ہے جن کی ریڑھ کی ہڈی میں چوٹ آئی ہو، لیکن دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کے درمیان مکمل طور پر رابطہ منقطع نہیں ہوا ہو، اور جن کی ٹانگوں میں ابھی کچھ حرکت باقی ہو۔
ابتدائی آزمائش میں حصہ لینے والے دو مریضوں میں سے ایک، وولف گینگ جیگر نے کہا کہ اس تکنیک نے فوراً اس کی حرکت پر “بڑا فرق” ڈالا ہے۔ 54 سالہ مریض نے نیچر میڈیسن جریدے میں شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں بتایا کہ “اب جب میں صرف چند قدموں کے ساتھ ایک سیڑھی دیکھتا ہوں تو میں جانتا ہوں کہ میں اس پر خود ہی چل سکتا ہوں۔”
یہ تحقیق سوئس سائنسدانوں کی ٹیم کی طرف سے کی گئی ہے جس نے حالیہ برسوں میں کئی اہم پیشرفتیں کی ہیں، جن میں ریڑھ کی ہڈی کی برقی محرک کے ذریعے کئی مفلوج مریضوں کو دوبارہ چلنے کے قابل بنایا گیا ہے۔ اس تحقیق میں محققین نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ دماغ کا کون سا حصہ ریڑھ کی ہڈی کی چوٹوں سے صحت یاب ہونے میں سب سے زیادہ اہم کردار ادا کرتا ہے۔