کراچی ۔پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے 4 مارچ کو پیٹرولیم ڈیلرز کی ہڑتال سے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے۔
کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالسمیع خان نے کہا کہ 4 مارچ کو ہڑتال کے حوالے سے کچھ اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، لیکن ہم نے ایسی کوئی کال نہیں دی۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ رمضان المبارک کے دوران عوام کو مشکلات کا سامنا نہ ہو، اور ہم ڈی ریگولیشن کے مکمل مخالف ہیں۔
عبدالسمیع خان نے مزید کہا کہ ہم اپنے ڈیلرز کے مفادات پر سمجھوتہ نہیں کر سکتے، اور ہم تین سال سے ڈی ریگولیشن کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈی ریگولیشن سے پیٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ میں اضافہ ہوگا، اور اس معاملے پر ہم سے کوئی مشورہ نہیں کیا گیا۔
انہوں نے وضاحت کی کہ جیسے ہی ڈی ریگولیشن کی بات سامنے آئی، ملک میں اسمگلنگ میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ پیٹرولیم ڈیلرز کے مسائل، خاص طور پر ڈیلر کمیشن اور اسمگلنگ کے حوالے سے، ابھی تک حل نہیں ہوئے۔ ان کے مطابق، اگر ڈی ریگولیشن لاگو ہوتا ہے تو غیرملکی آئل کمپنیاں سارا تیل خرید کر لے جائیں گی۔ اسمگلنگ کے مسئلے میں ایک نہیں بلکہ کئی ادارے ملوث ہیں، لیکن وزارت پیٹرولیم کی جانب سے اس کو روکنے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے جا رہے۔
عبدالسمیع خان نے کہا کہ ہماری ایسوسی ایشن وزارت سے بالکل متاثر نہیں ہے، اور حکومت سے ہمیں کوئی مثبت توقع نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ ہمیشہ اپنے ڈیلرز کے لیے لڑیں گے اور اس مقصد کے لیے اپنی جان دینے کو بھی تیار ہیں۔
چیئرمین پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے کہا کہ دو سال قبل انہوں نے ڈی جی ٹی او میں رجسٹریشن کرانے کی کوشش کی تھی، اور سندھ ہائی کورٹ میں مدمقابل پارٹی کو پاکستان پیٹرولیم کا نام استعمال کرنے سے روکا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بہت بڑی سازش ہے جو ہمارے خلاف کی جا رہی ہے، اور حکومت نے ہمارے خلاف ایک اور گروپ کھڑا کیا ہے۔ ہم نے کبھی بھی غیر قانونی مطالبات نہیں کیے ہیں۔