(تحریر :حسن نقوی)
رانا ثناء اللہ خان، جو مسلم لیگ (ن) کے سینئر سیاستدان ہیں، ہمیشہ سے وزارت داخلہ کے طاقتور عہدے پر واپسی کے خواہشمند رہے ہیں۔ تاہم، محسن نقوی کی تیز رفتار کامیابی—پہلے پنجاب کے سب سے کامیاب وزیر اعلیٰ کے طور پر اور اب پاکستان کے وزیر داخلہ اور چیئرمین پی سی بی کے طور پر—نے رانا ثناء اللہ کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے۔ ان کی مایوسی واضح ہے، کیونکہ وہ مسلسل محسن نقوی کے دوہری ذمہ داریوں پر سوالات اٹھاتے ہیں اور ان کی صلاحیت پر شک کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ محسن نقوی نے نہ صرف اپنے پیشروؤں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے بلکہ ایسی مثالیں قائم کی ہیں جن تک ان کے ناقدین کی رسائی ممکن نہیں۔

وزیر داخلہ کے طور پر، محسن نقوی نے رانا ثناء اللہ سے بہتر نتائج دیے ہیں۔ ان کے جدید طرز حکمرانی اور انسدادِ دہشت گردی کی حکمت عملی نے ملکی سلامتی کو مضبوط بنایا اور قانون و انصاف کی صورتحال میں نمایاں بہتری لائی۔ اس کے برعکس، ان کے پیشرو کوئی قابل ذکر کارکردگی نہیں دکھا سکے۔ محسن نقوی نے سیکیورٹی اداروں کو مزید فعال بنایا، جہاں ان کی قیادت میں پرانی فرسودہ پالیسیوں کی جگہ جدید اور نتیجہ خیز اقدامات نے لے لی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی کامیابیاں ان کے سیاسی مخالفین کے لیے باعثِ پریشانی بن گئی ہیں۔

محسن نقوی کی قائدانہ صلاحیت صرف سیاست تک محدود نہیں رہی بلکہ انہوں نے کرکٹ کے میدان میں بھی ایک نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کے طور پر، انہوں نے ڈومیسٹک کرکٹ کو نئی زندگی دی، انتظامی اصلاحات کیں، اور پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر ایک مضبوط ٹیم کے طور پر برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی قیادت میں پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی ممکن ہوئی، جو اس سے قبل ایک مشکل ہدف سمجھا جاتا تھا۔

محسن نقوی کی غیر معمولی کارکردگی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ ان کا دورِ وزارت اعلیٰ پنجاب کی تاریخ کا سب سے کامیاب دور شمار کیا جاتا ہے۔ ان کی برق رفتاری اور مؤثر گورننس نے انہیں “محسن اسپیڈ” کا لقب دیا، جسے خود شہباز شریف، جو ماضی میں اپنی تیز رفتار ترقیاتی منصوبوں کے باعث “شہباز اسپیڈ” کے نام سے مشہور تھے، نے تسلیم کیا۔ سابق وزیر اعظم نے برملا اعتراف کیا کہ “محسن اسپیڈ، شہباز اسپیڈ سے بھی آگے نکل چکی ہے۔” یہ حقیقت رانا ثناء اللہ جیسے سیاستدانوں کے لیے مزید بے چینی کا باعث بنی، جو خود کو قیادت کے اعلیٰ معیار پر نہیں لا سکے۔

یہی نہیں، بلکہ پنجاب کی موجودہ وزیر اعلیٰ مریم نواز بھی محسن نقوی کی قائم کردہ اعلیٰ روایات کے باعث مشکلات کا شکار نظر آتی ہیں۔ جہاں محسن نقوی کا دورِ وزارت اعلیٰ کارکردگی، نظم و ضبط اور جدید اقدامات سے عبارت تھا، وہاں مریم نواز کی حکومت ابھی تک مؤثر حکمت عملی وضع کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔ جو معیار محسن نقوی نے مقرر کیا، وہ اتنا بلند ہے کہ اب ہر نئی حکومت کا اس سے موازنہ کیا جانا ناگزیر ہے، اور فی الحال کوئی ان کی ہمسری نہیں کر پایا۔

رانا ثناء اللہ کی حالیہ انتخابی ناکامی نے ان کی مایوسی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ 2024 کے عام انتخابات میں، وہ این اے-100 فیصل آباد سے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار ڈاکٹر نثار جٹ کے ہاتھوں بدترین شکست سے دوچار ہوئے۔ یہ شکست ان کی سیاسی ساکھ کو مزید کمزور کر گئی، اور یوں محسن نقوی کے خلاف ان کی تنقید سیاسی عداوت کے بجائے ذاتی حسد کے زمرے میں آنے لگی۔

حقیقت یہی ہے کہ محسن نقوی کی قیادت—چاہے وہ حکومت میں ہو یا کرکٹ ایڈمنسٹریشن میں—پاکستان میں ایک نئی مثال قائم کر چکی ہے۔ ان کی کارکردگی، فیصلہ سازی، اور نتیجہ خیز پالیسیوں نے انہیں ایک کامیاب رہنما ثابت کیا ہے، جس کا کوئی مدمقابل نظر نہیں آتا۔ رانا ثناء اللہ کی حسد کی وجوہات واضح ہیں—وہ اس طاقت اور مقام کے خواہشمند تھے جو آج محسن نقوی کے پاس ہے۔ مگر بجائے اس کے کہ وہ محسن نقوی کو نیچا دکھانے کی کوشش کریں، بہتر ہوگا کہ وہ تسلیم کر لیں کہ پاکستان کو بالآخر ایک ایسا لیڈر مل چکا ہے جس کی کارکردگی خود اس کی گواہ ہے۔

Share.
Leave A Reply

Exit mobile version