پاکستان میں مہنگائی کی سطح دن بہ دن بڑھتی جارہی ہے، اور ایسا لگتا ہے کہ اس میں کمی آنے کا کوئی امکان نہیں۔ اس صورتحال میں پرانے زمانے کے لوگ اپنے سستے دور کا ذکر کرتے ہیں اور آج کی نسل کو یہ باتیں ناقابلِ یقین لگتی ہیں۔

پاکستان میں مہنگائی کا براہ راست تعلق ڈالر کے سستے یا مہنگے ہونے سے ہوتا ہے۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ پاکستان کے ابتدائی دنوں میں ڈالر کی قیمت کتنی تھی؟

پاکستان کے قیام کے وقت، یعنی 1947 میں، 1 امریکی ڈالر صرف 3.31 روپے کا تھا۔ معاشی تبدیلیوں، افراط زر اور کرنسی کی پالیسیوں کی بدولت وقت کے ساتھ ڈالر کی قیمت میں نمایاں اتار چڑھاؤ آیا۔

آئیے، آپ کو بتاتے ہیں کہ وہ عوامل کیا تھے جن کی وجہ سے پاکستان کے ابتدائی دنوں میں روپے کی قدر اتنی مضبوط تھی:

آزادی کے وقت پاکستان کی معیشت نسبتاً چھوٹی تھی، جس میں مہنگائی کو قابو میں رکھنے کی کوشش کی گئی تھی۔

پاکستان کا روپیہ شروع میں برطانوی پاؤنڈ سے منسلک تھا، جس کی وجہ سے اس کی قیمت مستحکم رہی۔

اشیاء اور خدمات کی قیمتیں نمایاں طور پر کم تھیں، جس کی وجہ سے روپے کی قوت خرید مضبوط تھی۔

پاکستان کی تجارت غیر ملکی کرنسی کے لین دین پر اتنا انحصار نہیں کرتی تھی، جیسا کہ آج کے دور میں ہوتا ہے۔

اس طرح، ابتدائی دنوں میں پاکستانی روپے کی طاقت اور معاشی استحکام کے پیچھے کئی عوامل تھے، جو آج کے دور کی مہنگائی سے مکمل طور پر مختلف تھے۔

Share.
Leave A Reply

Exit mobile version