واشنگٹن۔اہم امریکی کانگریس اراکین نے اپنی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی کی رہائی کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اتحادی، جو ولسن اور آگست پلگر، کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے بانی کے خلاف سیاسی بنیادوں پر مقدمات بنائے گئے ہیں اور وہ بھی ٹرمپ کی طرح عدالتی انتقامی کارروائی کا نشانہ بنے ہیں۔
کانگریس اراکین جو ولسن اور آگست پلگر نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کو خط لکھ کر زور دیا ہے کہ وہ سابق وزیراعظم اور پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی رہائی کے لیے پاکستان سے مذاکرات کریں۔
امریکی کانگریس اراکین کے اس مطالبے پر پاکستان نے سخت ردعمل دیا ہے۔
جو ولسن اور آگست پلگر نے 25 فروری کو مارکو روبیو کو مشترکہ خط ارسال کیا، جس میں کہا گیا کہ وہ عمران خان کی رہائی کے لیے پاکستان کے ساتھ بات چیت کریں۔
جو ولسن نے یہ خط سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کرتے ہوئے لکھا کہ وہ اور آگست پلگر وزیر خارجہ پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ پاکستان میں جمہوریت کو بحال کیا جائے اور عمران خان کو رہا کیا جائے۔
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات اسی صورت میں مضبوط ہو سکتے ہیں جب ان کی بنیاد آزادی اور جمہوریت پر ہو۔ ساتھ ہی یہ بھی ذکر کیا گیا کہ عمران خان کو پاکستان میں وسیع پیمانے پر عوامی مقبولیت حاصل ہے۔