بیجنگ۔چین کی بایوٹیک کمپنی “آکیسو” نے پھیپھڑوں کے کینسر کے علاج کے لیے ایک نئی دوا متعارف کروا کر دنیا کو حیران کر دیا ہے۔

ستمبر میں آکیسو نے اپنی دوا “ایوونیسیمیب” (Ivonescimab) کے کلینیکل ٹرائلز کے نتائج پیش کیے، جس میں یہ دوا امریکی دوا ساز کمپنی مرک کی مقبول دوا “کیٹرُوڈا” کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ثابت ہوئی۔

“ورلڈ کانفرنس آن لنگ کینسر” میں جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، آکیسو کی دوا استعمال کرنے والے مریضوں میں کینسر کی افزائش رکنے کا دورانیہ 11.1 ماہ رہا، جب کہ کیٹرُوڈا استعمال کرنے والے مریضوں کے لیے یہ مدت 5.8 ماہ رہی۔

ان نتائج کے بعد آکیسو کے امریکی شراکت دار، کیلیفورنیا کی کمپنی “سمٹ تھیراپیوٹکس” کے حصص کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا۔ اس کمپنی نے شمالی امریکہ اور یورپ میں آکیسو کی دوا کے تجارتی حقوق حاصل کر رکھے ہیں۔

ماہرین کے مطابق، یہ پیش رفت چینی بایوٹیک انڈسٹری کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔ آکیسو کی سی ای او مشیل ژیا نے کہا، “چینی بایوٹیک انڈسٹری عالمی سطح پر نمایاں کردار ادا کرے گی، اور ہم اس میدان میں آگے بڑھنے کے لیے پُرعزم ہیں۔”

ماضی میں چین کی فارماسیوٹیکل انڈسٹری زیادہ تر “می-ٹو” دوائیں بنانے پر مرکوز تھی، جن میں موجودہ ادویات کی نقل تیار کی جاتی تھی۔ تاہم، گزشتہ دہائی میں چینی کمپنیاں جدید ادویات کی تیاری پر توجہ دے رہی ہیں اور مغربی ممالک کے ساتھ اربوں ڈالر کے معاہدے کر رہی ہیں۔

مثال کے طور پر، 2023 میں آسٹرازینیکا نے چین کی سی ایس پی سی فارماسیوٹیکل گروپ کے ساتھ 1.92 ارب ڈالر کا معاہدہ کیا، جبکہ مرک نے چینی کمپنی ہان سو فارماسیوٹیکل کے ساتھ 2 ارب ڈالر کا معاہدہ کیا۔

ایچ ایس بی سی کی تحقیق کے مطابق، چین میں بایوٹیک انڈسٹری تیزی سے ترقی کر رہی ہے، جہاں 2017 میں لائسنسنگ معاہدوں کی تعداد 46 تھی، جو 2023 میں 200 سے تجاوز کر چکی ہے۔ اسی عرصے میں ان معاہدوں کی مالیت 4 ارب ڈالر سے بڑھ کر 57 ارب ڈالر ہو گئی۔

امریکہ میں آکیسو کی دوا کی منظوری کے لیے ابھی مزید وقت درکار ہوگا، تاہم کمپنی ایک عالمی کلینیکل ٹرائل کی تیاری کر رہی ہے، جس سے اس کی مؤثریت مزید ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر یہ ٹرائل کامیاب رہا، تو یہ چین کی بایوٹیک انڈسٹری کے لیے ایک بڑی پیش رفت ہوگی۔

Share.
Leave A Reply

Exit mobile version