نئی دہلی: بھارت میں ڈاکٹروں نے ایک نایاب طبی کیس میں 17 سالہ نوجوان کی کامیاب سرجری کی ہے، جو پیدائشی طور پر چار ٹانگوں کے ساتھ پیدا ہوا تھا۔

آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (AIIMS) کے ماہرین نے اس نوجوان کی دو اضافی ٹانگیں، جو اس کے پیٹ سے جڑی ہوئی تھیں، کو کامیابی سے علیحدہ کر دیا، جس سے اس کی زندگی میں ایک نیا باب کھل گیا۔

نوجوان کو کن مشکلات کا سامنا تھا؟
بھارتی میڈیا کے مطابق، نوجوان کا تعلق اتر پردیش کے ضلع بالیا سے ہے اور وہ 28 جنوری کو AIIMS لایا گیا تھا۔ اضافی ٹانگوں کی وجہ سے اس کی جسمانی نشوونما متاثر ہو رہی تھی اور وہ دیگر اعضاء کو نقصان پہنچا سکتی تھیں۔

نوجوان نے آٹھویں جماعت تک پہنچنے پر تعلیم چھوڑ دی کیونکہ نہ صرف جسمانی مسائل اس کی راہ میں رکاوٹ بن رہے تھے بلکہ لوگ اس کا مذاق بھی اڑاتے تھے، جس سے اس کی ذہنی صحت بھی متاثر ہوئی۔

یہ طبی مسئلہ کتنا نایاب ہے؟
سرجری کرنے والے ماہر ڈاکٹر کرشنا کے مطابق، اس قسم کے کیسز کو طبی زبان میں “نامکمل پیراسائٹک جڑواں” (Incomplete Parasitic Twin) کہا جاتا ہے۔

یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب جڑواں بچوں کا حمل ٹھہرتا ہے، لیکن ایک کا جسم مکمل طور پر نشوونما نہیں پاتا اور اس کے اعضا دوسرے بچے کے جسم سے جڑ جاتے ہیں۔

یہ ایک انتہائی نایاب طبی مسئلہ ہے، جو ایک کروڑ افراد میں صرف ایک بار دیکھا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں اب تک صرف 42 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں کسی انسان کے جسم میں چار ٹانگیں موجود ہوں۔

سرجری کتنی اہم تھی؟
یہ AIIMS نئی دہلی میں اپنی نوعیت کا پہلا کیس تھا، اور ڈاکٹروں کی محنت و مہارت کی بدولت نوجوان کو ایک بہتر زندگی کا موقع ملا۔ سرجری کے بعد اس کی صحت میں نمایاں بہتری آئی ہے، اور اب وہ ایک عام زندگی گزارنے کی امید رکھتا ہے۔

Share.
Leave A Reply

Exit mobile version